منگلورو11/مارچ (ایس او نیوز) ریاستی بی جے پی حکومت کی جانب سے سنگھ پریوار کے کارکنان پر دائر مقدمات واپس لیے جانے کے خلاف سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا قانونی کارروائی پر غورکررہی ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر الیاس محمد تُمبے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 5مارچ کو ریاستی حکومت نے جو حکم جاری کیا ہے اس کے تحت ریاست گیر پیمانے پر 46 فوجداری کے مقدمات واپس لیے گئے ہیں ان میں سے 35مقدمات سنگھ پریوار کارکنان اور لیڈران کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ ایس ڈی پی آئی اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے امکانات پر ماہرین قانون سے اس معاملے میں صلاح و مشورہ کررہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2006سے اب تک مختلف ریاستی حکومتوں نے جو مقدمات واپس لیے ہیں ان کی تعداد 500 ہے۔ اور ان میں سے 391 مقدمات سنگھ پریوار کارکنان پر دائر کیے گئے تھے۔ الیاس نے سوال کیا کہ آخر متاثرہ افراد یا شکایت کنندگان کی رائے جانے بغیر اس طرح کے مقدمات واپس لینے کی منطق کیا ہے۔
الیاس تُمبے نے بتایا کہ”حال ہی میں جو 46 مقدمات واپس لیے گئے ہیں ان میں سے اکثر یت ایسے معاملات کی ہے جس میں قتل کی کوشش، حملہ، تشدد، سرکاری افسران پر حملے، سرکاری افسران کی طرف سے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا کرنے اور سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے جیسے الزامات کے تحت کیس داخل کیے گئے تھے۔اس طرح سنگین الزامات والے مقدمات واپس لے کر بی جے پی حکومت نے مجرمانہ کارروائیوں کی ہمت افزائی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی یس ایڈی یورپا نے ماضی میں بھی وزیرا علیٰ رہتے ہوئے سنگھ پریوار کے ملزمان کے خلاف دائر مقدمات واپس لیے تھے۔حقیقت یہی ہے کہ بی جے پی حکومت مجرموں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ریاستی نائب صدر عبدالمجید نے کہا کہ ریاستی حکومت نے صرف ایک طبقے کے لوگوں پر دائر فوجداری معاملات واپس لیے ہیں۔